متنازعہ PS2 سروائیول ہارر “رول آف روز” یقینی طور پر ریمیک یا ری ریلیز کا مستحق ہے، لیکن بلومبر ٹیم اسے نہیں کر رہی

“رول آف روز”: ایک بھولا بسرا شاہکار جو نئے جنم کا مستحق ہے

پلے اسٹیشن 2 (PS2) کے دور کا متنازعہ سروائیول ہارر گیم “رول آف روز” (Rule of Rose) آج بھی گیمنگ کمیونٹی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اپنی گہری نفسیاتی کہانی، منفرد ماحول اور دل دہلا دینے والے موضوعات کی وجہ سے، یہ گیم ریلیز کے وقت کافی بحث کا موضوع بنا تھا۔ کئی سال گزرنے کے بعد، اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ کلاسک ٹائٹل ریمیک یا ری ریلیز کا مستحق نہیں؟ گیم کے مداحوں کا ماننا ہے کہ اسے یقینی طور پر جدید پلیٹ فارمز پر دوبارہ پیش کیا جانا چاہیے۔

“رول آف روز” کو اس کی ریلیز کے بعد بچوں کی شمولیت اور بعض حساس موضوعات پر مبنی مواد کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یورپی ممالک میں تو اس کی فروخت پر پابندی بھی لگ گئی تھی۔ تاہم، اس تنقید کے باوجود، گیم نے ایک مضبوط کلٹ فالوونگ حاصل کی ہے۔ اس کی کہانی ایک نوجوان لڑکی جینی کے گرد گھومتی ہے جو ایک پراسرار یتیم خانے میں پھنس جاتی ہے جہاں “گولڈن رولز” نامی ایک سفاکانہ نظام نافذ ہے۔ گیم کا وِکٹرین دور کا پس منظر، دلکش آرٹ اسٹائل اور گہری نفسیاتی ہارر اس کو دیگر سروائیول ہارر گیمز سے ممتاز کرتے ہیں۔

آج کے دور میں، PS2 ہارڈ ویئر تک رسائی مشکل ہو چکی ہے اور گیم کے گرافکس اور کنٹرولز جدید معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ ایک ریمیک یا ری ریلیز نہ صرف موجودہ مداحوں کو ایک بہتر تجربہ فراہم کر سکتا ہے بلکہ اسے ایک نئی نسل کے کھلاڑیوں تک بھی پہنچا سکتا ہے جو اس کے منفرد انداز اور کہانی سے واقف نہیں ہیں۔ بہتر گرافکس، اپ ڈیٹڈ کنٹرولز، اور ممکنہ طور پر کچھ اضافی مواد کے ساتھ، “رول آف روز” ایک بار پھر اپنی اہمیت منوا سکتا ہے۔

ہارر گیمز کی دنیا میں، بلومبر ٹیم (Bloober Team) نفسیاتی ہارر میں اپنی مہارت کے لیے جانی جاتی ہے، جس میں “سائلنٹ ہل 2 ریمیک” (Silent Hill 2 Remake) جیسے منصوبے شامل ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ “رول آف روز” کے ریمیک کے لیے بلومبر ٹیم ایک بہترین انتخاب ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کا انداز اس گیم کے موضوعات سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ تاہم، بلومبر ٹیم نے واضح کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر کام نہیں کر رہے۔ یہ خبر ان مداحوں کے لیے مایوسی کا باعث ہے جو اس کلاسک کی واپسی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ کوئی اور ڈیویلپر اس چھپے ہوئے جوہر کو دوبارہ دریافت کرے گا اور اسے وہ توجہ دے گا جس کا وہ مستحق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *