اسکائیریم کے لیڈ ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ اگلی ایلڈر اسکرولز کو دیکھنا چاہیے کہ بالڈرز گیٹ 3 نے چیزوں کو کس طرح ‘بامعنی’ بنایا، کیونکہ ‘گیمنگ کمیونٹی نے اپنی رائے دے دی ہے’

اسکائیریم کے ڈیزائنر نے اگلی ایلڈر اسکرولز کے لیے بالڈرز گیٹ 3 سے سبق سیکھنے کا مشورہ دے دیا

ویڈیو گیمز کی دنیا میں، بیتیسڈا کے اسکائیریم کے لیڈ ڈیزائنر، بروس نیلسن نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا ہے جو اگلی ایلڈر اسکرولز گیم کی سمت کے بارے میں گیمنگ کمیونٹی میں بحث کا باعث بن گیا ہے۔ نیلسن کا کہنا ہے کہ آنے والی ایلڈر اسکرولز کو بالڈرز گیٹ 3 کی کامیابی سے سبق سیکھنا چاہیے، خاص طور پر اس بات سے کہ اس نے کھلاڑیوں کے لیے ہر چیز کو کس طرح ‘بامعنی’ بنایا۔

نیلسن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بالڈرز گیٹ 3 نے کھلاڑیوں کو ایسے انتخاب اور نتائج پیش کیے جو واقعی ان کے گیم پلے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ محض سطحی انتخاب نہیں تھے بلکہ گہرے اور بامعنی فیصلے تھے جو کہانی اور کرداروں کے تعلقات کو بدل دیتے تھے۔ ان کے مطابق، ‘گیمنگ کمیونٹی نے اپنی رائے دے دی ہے’ اور اب ڈویلپرز کو کھلاڑیوں کی اس خواہش کو سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسے تجربات چاہتے ہیں جہاں ان کے اعمال کی اہمیت ہو۔

بالڈرز گیٹ 3 کا گیمنگ انڈسٹری پر اثر

لاریان اسٹوڈیوز کی بالڈرز گیٹ 3 نے گزشتہ سال ریلیز ہونے کے بعد سے گیمنگ کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اسے نہ صرف ناقدین کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی یہ ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہوئی ہے۔ اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کا گہرا بیانیہ، کرداروں کی تفصیل، اور کھلاڑیوں کو حقیقی آزادی دینا ہے کہ وہ اپنی کہانی خود لکھیں۔ اس گیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کھلاڑی پیچیدہ، کردار پر مبنی اور فیصلہ کن RPGs کی قدر کرتے ہیں۔

اسکائیریم جیسی مقبول سیریز کے ایک اہم رکن کی جانب سے یہ تبصرہ ایلڈر اسکرولز کے مداحوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈویلپرز بھی اب اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ کھلاڑی صرف ایک بڑی دنیا نہیں چاہتے بلکہ ایک ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں ان کے ہر فیصلے کا وزن ہو۔ اگلی ایلڈر اسکرولز کی ترقی کے دوران بالڈرز گیٹ 3 کے اس سبق کو مدنظر رکھنا سیریز کو مزید بلندیوں پر لے جا سکتا ہے اور کھلاڑیوں کے تجربے کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *