این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کا ٹی ایس ایم سی سے مطالبہ: “مجھے بہت زیادہ ویفرز درکار ہیں، اس سال بہت محنت کرنی پڑے گی”
تائیوان میں ٹاپ ٹیک مینوفیکچررز کے لیے منعقدہ ایک ‘کھربوں ڈالر کے عشائیہ’ کے باہر، این ویڈیا (Nvidia) کے سی ای او جینسن ہوانگ (Jensen Huang) نے تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) سے اس سال غیر معمولی محنت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ویڈیا کو اپنی بڑھتی ہوئی مصنوعات کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ ویفرز کی ضرورت ہے۔
جینسن ہوانگ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا، “ٹی ایس ایم سی کو اس سال بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے بہت زیادہ ویفرز درکار ہیں۔” یہ بیان عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں این ویڈیا کی اہم پوزیشن اور ٹی ایس ایم سی پر اس کے گہرے انحصار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ عشائیہ تائیوان میں ٹیکنالوجی کی صنعت کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا تھا تاکہ عالمی ٹیک سپلائی چین کے مستقبل اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ٹی ایس ایم سی دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ چپ بنانے والی کمپنی ہے اور این ویڈیا جیسی کمپنیوں کے لیے جدید ترین چپس تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ این ویڈیا، جو مصنوعی ذہانت (AI) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (HPC) کے شعبوں میں اپنے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کے لیے مشہور ہے، کی مصنوعات کی طلب میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر، AI ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی نے این ویڈیا کی چپس کی مانگ کو آسمان تک پہنچا دیا ہے۔
ہوانگ کا یہ بیان ٹی ایس ایم سی پر دباؤ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھائے اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر کام کرے تاکہ این ویڈیا کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ عالمی سطح پر چپس کی قلت اور سپلائی چین کے جاری چیلنجز کے پیش نظر، ٹی ایس ایم سی کی کارکردگی اور بروقت فراہمی کا براہ راست اثر این ویڈیا کی مارکیٹ میں پوزیشن اور مجموعی ٹیک صنعت پر پڑے گا۔
یہ صورتحال این ویڈیا اور ٹی ایس ایم سی کے درمیان گہرے تعلقات اور باہمی انحصار کو اجاگر کرتی ہے۔ دونوں کمپنیاں عالمی ٹیک صنعت کے مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اور ان کی شراکت داری آنے والے سالوں میں جدت اور ترقی کی رفتار کا تعین کرے گی۔