میٹا کو VR پر بھاری نقصان جاری
میٹا (Meta) نے گزشتہ سال اپنی ورچوئل رئیلٹی (VR) ڈویژن، رئیلٹی لیبز (Reality Labs) میں 19.1 بلین ڈالر کا بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ یہ نقصان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی مصنوعی ذہانت (AI) کی طرف اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور AI سے تیار کردہ گیمنگ کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ رئیلٹی لیبز، جو میٹا کے میٹاورس کے وژن کی بنیاد ہے، نے مسلسل کئی چوتھائیوں سے اربوں ڈالر کا نقصان دکھایا ہے۔ یہ ڈویژن VR ہیڈسیٹ جیسے کہ کویسٹ (Quest) سیریز اور دیگر میٹاورس ٹیکنالوجیز کی تحقیق اور ترقی پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ تاہم، صارفین اور ڈویلپرز کی جانب سے میٹاورس کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی رفتار کمپنی کی توقعات سے کہیں زیادہ سست رہی ہے۔
AI کی جانب میٹا کی بڑی منتقلی
ایک طرف VR میں یہ نقصانات ہیں، تو دوسری طرف میٹا نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کو اپنی حکمت عملی کا مرکز بنا لیا ہے۔ سی ای او مارک زکربرگ نے کئی بار اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپنی کا مستقبل AI میں مضمر ہے، اور وہ اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس میں AI ماڈلز کی ترقی، مختلف پلیٹ فارمز پر AI خصوصیات کا انضمام، اور یہاں تک کہ AI سے تیار کردہ گیمنگ کے نئے تصورات بھی شامل ہیں۔ میٹا اپنے مختلف پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میں AI ٹیکنالوجی کو مزید گہرائی سے شامل کر رہا ہے تاکہ صارف کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔
تضاد اور مستقبل کے چیلنجز
یہ صورتحال ایک دلچسپ تضاد پیش کرتی ہے: ایک ٹیکنالوجی (VR/میٹاورس) جس پر میٹا نے اربوں ڈالر خرچ کیے، وہ ابھی تک منافع بخش نہیں ہو سکی، جبکہ کمپنی اپنی تمام تر توانائی اور وسائل کو ایک نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی (AI) کی طرف منتقل کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میٹا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو متوازن رکھے اور میٹاورس کے لیے ایک واضح اور قابلِ عمل منافع بخش راستہ تلاش کرے۔ زکربرگ کا کہنا ہے کہ VR اور AI دونوں ہی طویل مدتی سرمایہ کاری ہیں اور یہ دونوں ٹیکنالوجیز مستقبل میں ایک دوسرے کی تکمیل کریں گی۔ تاہم، فی الحال، میٹا کے شیئر ہولڈرز کے لیے VR کے نقصانات ایک پریشان کن حقیقت ہیں، خاص طور پر جب کمپنی AI میں نئی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کو ان دونوں شعبوں میں توازن قائم کرتے ہوئے طویل مدتی کامیابی کے لیے حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔