گوگل کے نئے AI ‘ورلڈ ماڈل’ نے ویڈیو گیم سرمایہ کاروں کو بظاہر خوفزدہ کر دیا ہے، تاہم اس کے اصل اثرات کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں گوگل نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (AI) ‘ورلڈ ماڈل’ کے ساتھ ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے، جس کا نام ‘جینی’ (Genie) ہے۔ اس ماڈل کی صلاحیتوں نے بظاہر ویڈیو گیم انڈسٹری کے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جینی، جو کہ محض چند تصاویر یا تحریری ہدایات سے قابلِ پلے (playable) گیمنگ ماحول تخلیق کر سکتا ہے، نے مستقبل میں گیم ڈویلپمنٹ کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

جینی کیا ہے اور یہ سرمایہ کاروں کو کیوں پریشان کر رہا ہے؟

گوگل کا ‘جینی’ ایک ایسا AI ماڈل ہے جو کسی بھی تصویر، ٹیکسٹ یا خاکہ کو لے کر اسے ایک مکمل، قابلِ استعمال 2D پلیٹفارمر گیم کی دنیا میں بدل سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گیم ڈویلپرز کو اب شروع سے ہر چیز ڈیزائن کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ AI چند سیکنڈز میں ایک بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکتا ہے۔ یہ جدت جہاں ایک طرف تخلیقی عمل کو تیز کر سکتی ہے، وہیں دوسری طرف بڑے گیم اسٹوڈیوز اور ان کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی موجودہ گیم ڈویلپمنٹ کے ماڈلز میں خلل ڈال سکتی ہے، جس سے ملازمتوں میں کمی اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ویڈیو گیم انڈسٹری ایک اربوں ڈالر کی صنعت ہے جو مسلسل جدت اور تخلیقی صلاحیتوں پر انحصار کرتی ہے۔ ‘جینی’ جیسے AI ماڈلز کی آمد سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا مستقبل میں گیمز بنانے کا عمل مکمل طور پر خودکار ہو جائے گا؟ کیا چھوٹے ڈویلپرز کو ایک مسابقتی برتری حاصل ہو جائے گی؟ اور کیا اس سے بڑے گیم پبلشرز کا کردار کم ہو جائے گا؟

تاہم، اس کے حقیقی اور طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ‘جینی’ ایک متاثر کن پیش رفت ہے، لیکن یہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ موجودہ وقت میں یہ صرف سادہ 2D پلیٹفارمر گیمز بنا سکتا ہے اور اس میں انسانی تخلیقی صلاحیتوں، کہانی نگاری، اور پیچیدہ گیم میکینکس کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اسے انسانی ڈویلپرز کے لیے ایک ٹول کے طور پر دیکھتے ہیں جو انہیں مزید تیزی سے پروٹو ٹائپس بنانے اور تخلیقی عمل کو تقویت دینے میں مدد دے گا، نہ کہ انہیں مکمل طور پر ہٹانے میں۔

لہٰذا، جب کہ ‘جینی’ نے ویڈیو گیم کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور سرمایہ کاروں کے درمیان غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے، اس کے مستقبل کے استعمال اور انڈسٹری پر اس کے مجموعی اثرات کا مشاہدہ کرنا ابھی باقی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیقی صلاحیتیں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر گیمنگ کے مستقبل کو تشکیل دیتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *