اسکائی رِم کے ڈیزائن لیڈ کا دعویٰ: ‘آج موروِنڈ کھیلنے پر آپ کو جھنجھلاہٹ ہوگی، یہ وقت کی کسوٹی پر پورا نہیں اترے گا’

اسکائی رِم کے ڈیزائن لیڈ کا بیان

ویڈیو گیمز کی دنیا میں پرانی اور نئی نسل کے گیمز کا موازنہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ حال ہی میں، مشہور رول پلےئنگ گیم ‘اسکائی رِم’ (Skyrim) کے ڈیزائن لیڈ، بروس نیسمیتھ (Bruce Nesmith) نے اپنے ایک بیان سے گیمنگ کمیونٹی میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آج کوئی کھلاڑی 2002 میں ریلیز ہونے والے کلاسک گیم ‘موروِنڈ’ (Morrowind) کو کھیلے گا، تو اسے ‘جھنجھلاہٹ’ محسوس ہوگی۔ نیسمیتھ کے مطابق، موروِنڈ کو کھیلنے کی حقیقت وقت کی کسوٹی پر پورا نہیں اترے گی۔

وقت کی کسوٹی پر پورا نہ اترنے کی وجوہات

بروس نیسمیتھ نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ پرانے گیمز، بالخصوص موروِنڈ، میں ایسے میکینکس اور ڈیزائن عناصر موجود ہیں جو آج کے جدید گیمز کے کھلاڑیوں کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ موروِنڈ میں موجود فرسٹ پرسن ویو اور اس وقت کے محدود ٹیکنالوجیز کی وجہ سے گیم پلے کا تجربہ آج کے معیارات کے مطابق نہیں ہے۔ نیسمیتھ کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ گیمز کی توقعات اور ٹیکنالوجی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اور موروِنڈ جیسی گیمز جو اپنے وقت میں انقلابی تھیں، اب پرانی لگ سکتی ہیں۔

موروِنڈ، جو ‘دی ایلڈر اسکرولز’ (The Elder Scrolls) سیریز کا تیسرا حصہ ہے، اپنے وقت میں ایک گہرا اور وسیع فینٹسی ورلڈ پیش کرتا تھا جسے بہت سراہا گیا۔ اس کی پیچیدہ کہانی، وسیع ایکسپلوریشن اور منفرد ماحول نے اسے ایک کلٹ کلاسک بنا دیا۔ تاہم، نیسمیتھ کا ماننا ہے کہ گیم کی پرانی گرافکس، سست رفتار جنگی نظام، اور جدید گیمز میں عام سمجھی جانے والی سہولیات جیسے کہ کوئیسٹ مارکرز (quest markers) یا فاسٹ ٹریول (fast travel) کی کمی، آج کے کھلاڑیوں کے لیے اسے مشکل بنا سکتی ہے۔

گیمنگ کی دنیا میں ارتقاء

نیسمیتھ کے تبصرے گیمنگ انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں، ویڈیو گیمز کی ٹیکنالوجی، گرافکس اور گیم پلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جدید گیمز اکثر ہموار کنٹرولز، حقیقت پسندانہ بصری اور صارف دوست انٹرفیس پیش کرتے ہیں۔ یہ ارتقاء پرانے گیمز کو آج کے کھلاڑیوں کے لیے کم پرکشش بنا سکتا ہے، خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے لیے جو نئے گیمز سے واقف ہیں۔

تاہم، بہت سے موروِنڈ کے مداح نیسمیتھ کے اس دعوے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موروِنڈ کی اپنی ایک منفرد دلکشی اور گہرائی ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ بہت سے کھلاڑی اس کی آزادی، کردار سازی کی گہرائی اور کہانی کے لیے اسے پسند کرتے ہیں، اور جدید سہولیات کی کمی کو چیلنج یا گیم کے تجربے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ بحث گیمنگ کمیونٹی میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ آیا پرانے گیمز کو جدید معیارات پر پرکھنا چاہیے یا انہیں ان کے تاریخی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *