id Software کے دوسرے FPS کی صرف $5,000 کی آمدنی، مگر ایک حیرت انگیز لمحے نے Wolfenstein اور Doom کی بنیاد رکھی

id Software کے دوسرے FPS کی صرف $5,000 کی آمدنی، مگر ایک حیرت انگیز لمحے نے Wolfenstein اور Doom کی بنیاد رکھی

ویڈیو گیم کی دنیا میں کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو محض اعداد و شمار سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی مشہور گیم اسٹوڈیو id Software کی ہے، جس کے دوسرے فرسٹ پرسن شوٹر (FPS) گیم نے صرف 5,000 ڈالر کی معمولی آمدنی حاصل کی تھی۔ تاہم، اس گیم کے ایک ایسے لمحے نے اسٹوڈیو کے مستقبل کو یکسر بدل دیا، جس کے بغیر شاید آج ہم Wolfenstein اور Doom جیسے شاہکار گیمز سے محروم رہتے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب گیم کی ایک خاص بات نے ایک ڈویلپر کو اپنی کرسی سے گرا دیا، اور اس نے کہا، “یہ ویڈیو گیم میں دیکھی گئی سب سے پاگل پن والی چیزوں میں سے ایک تھی۔”

id Software، جو کہ اپنے انقلابی FPS گیمز کے لیے جانا جاتا ہے، اپنے ابتدائی دنوں میں مالی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ ان کا دوسرا FPS، جس نے مارکیٹ میں خاص کامیابی حاصل نہیں کی، اسٹوڈیو کے لیے ایک مشکل وقت کی نشاندہی کر رہا تھا۔ تاہم، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کا جذبہ ان کے اندر ہمیشہ موجود رہا۔ اسی گیم کے دوران یا اس سے متاثر ہو کر، ڈویلپرز نے ایک ایسی تکنیکی پیش رفت کی جو گیمنگ کی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوئی۔

یہ وہ وقت تھا جب id Software کے بانیوں میں سے ایک، جان کارمیک، نے ایک نئی تکنیک کا مظاہرہ کیا جس نے 3D گرافکس کو اس وقت کے لیے ناقابل یقین حد تک ہموار اور تیز بنا دیا۔ جب انہوں نے یہ پروٹو ٹائپ اپنے ساتھی ڈویلپر جان رومیرو کو دکھایا، تو ردعمل غیر متوقع تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر رومیرو اپنی کرسی سے گر گئے، حیرت اور جوش سے مغلوب ہو گئے۔ ان کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے، “یہ ویڈیو گیم میں دیکھی گئی سب سے پاگل پن والی چیزوں میں سے ایک تھی!”

یہ لمحہ id Software کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس غیر معمولی ردعمل نے ڈویلپرز کو یہ باور کرایا کہ انہوں نے کچھ بہت بڑا دریافت کر لیا ہے۔ اسی تکنیک اور جنون نے انہیں Wolfenstein 3D پر کام کرنے پر اکسایا، جو کہ FPS صنف کا ایک اہم ستون بن گیا۔ Wolfenstein کی کامیابی نے اسٹوڈیو کو مزید وسائل اور حوصلہ فراہم کیا، جس کے بعد انہوں نے Doom جیسے گیم کو تخلیق کیا، جس نے FPS گیمز کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

آج، جب ہم Wolfenstein اور Doom جیسے گیمز کی میراث کو دیکھتے ہیں، تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان کی بنیاد ایک ایسے گیم نے رکھی تھی جس نے صرف $5,000 کمائے، مگر ایک ڈویلپر کے حیرت سے کرسی سے گرنے کے لمحے نے اس کی حقیقی قدر کو اجاگر کیا۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدت اور تخلیقی جذبہ، چاہے ابتدائی طور پر کتنا ہی کم مالی فائدہ دے، دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے اور گیمنگ کی دنیا کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *