Wikipedia turns 25, still boasting zero ads and over 7 billion visitors per month despite the rise of AI and threats of government repression

وکی پیڈیا کی پچیسویں سالگرہ: ایک مفت علم کا انقلاب جو اشتہارات، مصنوعی ذہانت اور ریاستی دباؤ سے بے نیاز ہے!

چینی تاریخ کی سب سے عظیم تصنیف، “یونگلے انسائیکلوپیڈیا” (Yongle Encyclopedia)، جو پندرہویں صدی میں مِنگ خاندان کے دور میں مرتب کی گئی تھی، شاید آج اپنی خاموش لائبریریوں میں حسد کی آگ میں جل رہی ہو۔ یہ محض ایک استعارہ نہیں بلکہ اس سچائی کا اعتراف ہے کہ علم کی دنیا میں وکی پیڈیا نے جو انقلاب برپا کیا ہے، اس کی نظیر قدیم و جدید تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ پچیس سال قبل ایک سادہ سے خیال کے ساتھ شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج دنیا کے ہر کونے میں، ہر زبان میں، ہر اس شخص کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے جو علم کی پیاس بجھانا چاہتا ہے۔ اشتہارات سے پاک، مکمل طور پر عوامی تعاون پر مبنی اور ہر ماہ سات ارب سے زائد وزٹ حاصل کرنے والا یہ پلیٹ فارم، نہ صرف مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے ایک چٹان کی طرح کھڑا ہے بلکہ ریاستی جبر اور سنسر شپ کی دھمکیوں کے باوجود اپنی آزادی اور غیر جانبداری کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہے۔ یہ محض ایک ویب سائٹ نہیں، یہ ایک عالمی تحریک ہے، علم کی آزادی کا ایک روشن مینار ہے۔

وکی پیڈیا کا یہ سفر صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی تعاون، رضاکارانہ جذبے اور علم کی آفاقی قدر پر ایمان کا ایک دلکش داستان ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک ایسا ادارہ جو کسی حکومت کی پشت پناہی کے بغیر، کسی کارپوریٹ دیو کی سرمایہ کاری کے بغیر، اور سب سے اہم، کسی بھی قسم کے تجارتی اشتہارات سے مکمل طور پر پاک ہو کر بھی دنیا کا سب سے بڑا معلوماتی ذخیرہ بن جائے؟ اس کی بنیاد میں وہ فلسفہ کارفرما ہے جو علم کو کسی مخصوص طبقے یا ادارے کی میراث نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسانیت کا مشترکہ ورثہ قرار دیتا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں رضاکار، مختلف زبانوں میں، مختلف موضوعات پر اپنے علم اور وقت کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اور یہ سب کچھ بغیر کسی مالی فائدے کے۔ یہ عمل نہ صرف معلومات کو ہر ایک کی دسترس میں لاتا ہے بلکہ اسے مسلسل تازہ دم اور بہتر بھی بناتا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو سرمایہ داری کے اس دور میں، جہاں ہر چیز کی قیمت لگائی جاتی ہے، ایک انوکھا اور انقلابی تصور پیش کرتا ہے۔ وکی پیڈیا نے ثابت کیا ہے کہ انسانیت کا بہترین پہلو، جب علم کے فروغ کے لیے متحرک ہو، تو وہ مالیاتی ترغیبات سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتا ہے۔

وکی پیڈیا کی یہ کامیابی اس کے غیر منافع بخش ماڈل کی بدولت ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ہر کلک، ہر ویو، اور ہر سرچ کا اپنا ایک تجارتی پہلو ہے، وکی پیڈیا کا اشتہارات سے پاک ہونا ایک معجزے سے کم نہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معلومات کا حصول تجارتی مفادات سے آلودہ نہ ہو۔ آپ کو وکی پیڈیا پر کسی پروڈکٹ کی تشہیر نظر نہیں آئے گی، نہ ہی آپ کے ڈیٹا کو اشتہاری کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا۔ یہ خالصتاً قارئین اور رضاکاروں کے عطیات پر چلنے والا ایک ادارہ ہے۔ یہ عطیات، چاہے وہ ایک ڈالر کے ہوں یا ہزاروں ڈالر کے، وکی پیڈیا کو اپنی آزادی اور غیر جانبداری برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ماڈل اسے ان دباؤ سے آزاد رکھتا ہے جو اکثر کارپوریٹ میڈیا اور معلوماتی پلیٹ فارمز کو اپنی ریٹنگز بڑھانے یا زیادہ سے زیادہ اشتہارات حاصل کرنے کے لیے سنسنی خیزی یا گمراہ کن معلومات پھیلانے پر مجبور کرتے ہیں۔ وکی پیڈیا کی بقا کا راز اس کے شفاف مالیاتی ڈھانچے میں پنہاں ہے، جو اسے ایک عوامی اثاثہ بناتا ہے نہ کہ کسی کارپوریشن کی ملکیت۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں علم کی تلاش ایک مقدس سفر ہے، نہ کہ تجارتی لین دین۔

آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج مصنوعی ذہانت (AI) ہے۔ جب AI ماڈلز اربوں کی تعداد میں معلومات تخلیق کر رہے ہیں، اور اکثر اوقات “ہلوسینیشنز” (یعنی غلط یا من گھڑت معلومات) کا شکار ہو رہے ہیں، تو وکی پیڈیا کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ وکی پیڈیا، جو انسانی عقل، تحقیق اور باہمی تصدیق پر مبنی ہے، مصنوعی ذہانت کے اس طوفان میں ایک مستند اور قابلِ اعتبار لنگر کی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے AI ماڈلز تو خود وکی پیڈیا کے ڈیٹا کو تربیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا AI وکی پیڈیا کو پیچھے چھوڑ دے گا یا اس کے لیے ایک نیا چیلنج بن جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ وکی پیڈیا کا انسانی پہلو، اس کی کمیونٹی کا تدریجی عمل، اور سچائی کی تلاش میں اس کی غیر متزلزل وابستگی اسے AI کے محض ڈیٹا پراسیسنگ سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا ماخذ ہے جہاں معلومات کو صرف جمع نہیں کیا جاتا بلکہ اسے انسانی فہم و فراست کے فلٹر سے گزارا جاتا ہے، اس کی تصدیق کی جاتی ہے، اور اسے ایک قابلِ فہم اور جامع شکل دی جاتی ہے۔ وکی پیڈیا نہ صرف AI کے ذریعے پیدا ہونے والی گمراہ کن معلومات کا ایک تریاق ہے بلکہ یہ انسانی شعور اور اجتماعی حکمت کا ایک زندہ ثبوت بھی ہے۔

صرف AI ہی نہیں، ریاستی جبر اور سنسر شپ بھی وکی پیڈیا کے لیے ایک مسلسل چیلنج رہے ہیں۔ کئی حکومتوں نے اپنی مرضی کے خلاف معلومات کو ہٹانے یا اپنے شہریوں کے لیے وکی پیڈیا تک رسائی کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وکی پیڈیا کی گلوبل اور غیر مرکزی نوعیت اسے ایسے دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ اس کے سرورز دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں، اس کے رضاکار مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور اس کی پالیسیاں کسی ایک حکومت کے تابع نہیں ہیں۔ یہ معلومات کی آزادی کا ایک عالمی علمبردار بن گیا ہے، جہاں سچائی کو دبانا مشکل ہے۔ جب کوئی حکومت کسی ایک ملک میں وکی پیڈیا کو بلاک کرتی ہے، تو اس کے دنیا بھر کے رضاکار اور حامی متبادل راستے تلاش کرتے ہیں تاکہ معلومات کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ جدوجہد صرف ایک ویب سائٹ کی بقا کی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق، یعنی معلومات تک رسائی کی آزادی کی جنگ ہے۔ وکی پیڈیا نے ثابت کیا ہے کہ علم کی پیاس کو کسی بھی دیوار یا پابندی سے روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، ثقافتی اور جغرافیائی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے علم کا تبادلہ کرتا ہے۔

وکی پیڈیا کی پچیسویں سالگرہ مناتے ہوئے، ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے علم کی دنیا کو کیسے بدل دیا ہے۔ اس نے نہ صرف معلومات کو جمہوری بنایا ہے بلکہ ان لاکھوں لوگوں کو بااختیار بنایا ہے جن کے پاس کبھی عظیم لائبریریوں یا یونیورسٹیوں تک رسائی نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا عالمی گاؤں ہے جہاں ہر کوئی نہ صرف سیکھ سکتا ہے بلکہ اپنے علم کو دوسروں کے ساتھ بانٹ بھی سکتا ہے۔ وکی پیڈیا کا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہ اپنی غیر جانبداری، آزادی اور عوامی تعاون کے اصولوں پر قائم رہ سکے گا؟ کیا یہ AI کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ریاستی دباؤ کا مقابلہ کر سکے گا؟ یہ چیلنجز یقیناً بڑے ہیں، لیکن وکی پیڈیا کی اب تک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسانیت کا اجتماعی شعور، جب علم کی روشنی پھیلانے کے لیے متحد ہو جائے، تو وہ ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے۔ وکی پیڈیا صرف ایک انسائیکلوپیڈیا نہیں، یہ انسانیت کے بہترین عزائم کا ایک زندہ استعارہ ہے، ایک ایسا خواب جو پچیس سال پہلے دیکھا گیا تھا اور آج بھی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو روشن کر رہا ہے۔ یہ علم کی اس پیاس کا جواب ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہے، ایک ایسی پیاس جسے کوئی بھی ٹیکنالوجی یا طاقت مکمل طور پر بجھا نہیں سکتی، بلکہ صرف مزید روشن کر سکتی ہے۔

Wikipedia at 25: A Digital Colossus Defying Ads, AI, and Government Suppression – The Unseen Battle for Global Knowledge

The Ming Dynasty Yongle Encyclopedia, a monumental compendium of knowledge from the 15th century, must surely be quietly seething in its ancient, dusty archives. For what Wikipedia has achieved in a mere quarter-century dwarfs even the most ambitious state-sponsored knowledge projects of history. Twenty-five years young, this digital leviathan continues to operate without a single advertisement, yet it commands over seven billion monthly visitors. In an era dominated by the relentless rise of artificial intelligence and the ever-present shadow of government repression, Wikipedia stands as a testament to the enduring power of human collaboration and the radical idea of free knowledge for all. It’s not just a website; it’s a global phenomenon, a vibrant ecosystem of human intellect, and a beacon of information freedom in an increasingly complex world.

How did a platform, born from a simple idea, manage to not only survive but thrive to such an extent without the backing of governments, the deep pockets of corporate giants, or the pervasive influence of advertising revenue? The answer lies at the very core of its philosophy: the democratization of knowledge. Wikipedia isn’t merely a repository of facts; it’s a living, breathing testament to the collective human endeavor. Millions of volunteers, spanning every continent and culture, dedicate their time, expertise, and passion to curate, edit, and expand its vast archives. This is a monumental act of altruism in an age often characterized by self-interest. Unlike traditional encyclopedias, Wikipedia is never “finished”; it’s a perpetually evolving organism, constantly updated and refined by its global community. This unique, community-driven model not only ensures its scale and relevance but also imbues it with a resilience that commercial ventures often lack. It demonstrates that when humanity collaborates for the greater good of knowledge, the results can transcend mere economic incentives, fostering an unparalleled global public good.

The absence of advertising is perhaps Wikipedia’s most revolutionary, yet often overlooked, feature. In a digital landscape where every click is monetized, and every interaction is a data point for targeted ads, Wikipedia offers a sanctuary. It’s a space where the pursuit of knowledge remains untainted by commercial imperatives. There are no flashing banners, no sponsored content subtly influencing your perception, no data harvesting for third-party advertisers. This commitment to an ad-free experience is not merely a design choice; it’s a profound ethical stance that underpins its credibility and trust. It’s sustained entirely by donations from its users – individuals who believe in its mission and contribute whatever they can, from a few dollars to substantial sums. This funding model, while sometimes precarious, is Wikipedia’s shield against external pressures. It allows the platform to prioritize accuracy, neutrality, and global accessibility over profit margins or shareholder demands, making it a truly independent source of information in a media environment increasingly compromised by commercial interests. This financial independence is not just about keeping the lights on; it’s about preserving the sanctity of knowledge itself.

The advent of generative artificial intelligence presents both a profound challenge and a curious validation for Wikipedia. As AI models proliferate, capable of generating vast amounts of text, they also frequently “hallucinate”—producing plausible-sounding but factually incorrect information. In this landscape, Wikipedia’s role as a human-curated, rigorously referenced, and constantly scrutinized source of truth becomes even more critical. Ironically, many of these very AI models are trained on Wikipedia’s extensive dataset, highlighting its foundational importance to the future of information. The question then becomes: will AI supersede Wikipedia, or will Wikipedia serve as the essential counter-narrative to AI-generated ambiguity? The answer lies in Wikipedia’s inherently human process—its commitment to consensus, peer review, and the constant striving for verifiable facts. It’s not just about data processing; it’s about human discernment, critical thinking, and collective wisdom. Wikipedia stands as a bulwark against the potential for AI-driven misinformation, offering a trusted anchor in a sea of potentially fabricated digital content. It underscores


Source: https://www.pcgamer.com/gaming-industry/wikipedia-turns-25-still-boasting-zero-ads-and-over-7-billion-visitors-per-month-despite-the-rise-of-ai-and-threats-of-government-repression/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *