صنعت میں بڑھتی ہوئی تشویش: گیم ڈویلپرز کی نصف سے زائد تعداد جنریٹو اے آئی کو نقصان دہ سمجھتی ہے
ویڈیو گیمز کی صنعت میں جنریٹو اے آئی (تخلیقی مصنوعی ذہانت) کے بارے میں رائے میں ایک ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اب گیم ڈویلپرز کی 50 فیصد سے زائد تعداد یہ سمجھتی ہے کہ جنریٹو اے آئی صنعت کے لیے نقصان دہ ہے، جو کہ صرف دو سال پہلے کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی تشویش اتنی گہری ہے کہ کچھ ڈویلپرز نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ‘میں جنریٹو اے آئی استعمال کرنے کے بجائے صنعت چھوڑ دوں گا’۔
صرف دو سال پہلے، جنریٹو اے آئی کو اکثر ایک ایسے ٹول کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو کام کی کارکردگی کو بڑھا سکتا ہے اور تخلیقی عمل میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی اور اس کے ممکنہ اثرات نے ڈویلپرز کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بنیادی خدشات میں ملازمتوں کا خاتمہ، تخلیقی کام کی اصلیت پر سمجھوتہ، اور دانشورانہ ملکیت کے حقوق شامل ہیں۔ ڈویلپرز کو ڈر ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی جگہ لے سکتا ہے، جس سے گیمز کی انفرادیت اور فنکارانہ قدر متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ رائے شماری، اگرچہ اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ گیم ڈویلپمنٹ کمیونٹی میں ایک گہری تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ وہ ڈویلپرز جو اے آئی کے خلاف ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ ان کے ہنر اور پیشے کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے لیے، گیم بنانا صرف کوڈنگ اور گرافکس کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فنکارانہ اظہار ہے جو انسانی جذبات اور تجربات سے جنم لیتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ ‘میں جنریٹو اے آئی استعمال کرنے کے بجائے صنعت چھوڑ دوں گا’ اس گہرے جذباتی لگاؤ اور اپنے کام کی سالمیت کو برقرار رکھنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی مخالفت سے گیم کمپنیوں کے لیے چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں جو اے آئی کو اپنے ورک فلو میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہیں نہ صرف ٹیکنالوجی کے فوائد کو دیکھنا ہے بلکہ اپنے ڈویلپرز کے خدشات کو بھی دور کرنا ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے جہاں اے آئی کو انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ ان کی جگہ لینے کے لیے۔ اس بحث کا نتیجہ آنے والے سالوں میں ویڈیو گیمز کی صنعت کی سمت کو نمایاں طور پر متاثر کرے گا۔